حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریم پور، کرناٹک/ امام جمعہ کریم پور، کرناٹک مولانا سید وصی حیدر رضوی نے خطبۂ جمعہ میں ’’عقل: اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور اس کا صحیح استعمال‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں، لیکن عقل ان میں ایک نہایت اہم نعمت ہے۔ عقل ہی کے ذریعے انسان حق و باطل، خیر و شر اور حلال و حرام میں تمیز کرتا ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت «إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام انسان کو غور و فکر، تدبر اور عقل کے صحیح استعمال کی دعوت دیتا ہے۔ انہوں نے حدیث «الْعَقْلُ مَا عُبِدَ بِهِ الرَّحْمٰنُ وَاكْتُسِبَ بِهِ الْجِنَانُ» کی روشنی میں بیان کیا کہ حقیقی عقل وہ ہے جو انسان کو اللہ کی معرفت، عبادت اور نیک اعمال کی طرف لے جائے۔
مولانا وصی حیدر رضوی امام جمعہ کریم پور کرناٹک نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلنے والی خبروں کو بغیر تحقیق آگے بڑھانا درست نہیں۔ قرآن کریم ہمیں خبر کی تحقیق کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایک باشعور مسلمان کو ہر معاملے میں جذبات کے ساتھ عقل، بصیرت اور تحقیق کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔
گاندھی جینتی کے حوالے سے
انہوں نے گاندھی جینتی کے موقع پر مہاتما گاندھی کی زندگی کے اس پہلو کا ذکر کیا جس میں انہوں نے عدم تشدد، سچائی اور باہمی رواداری پر زور دیا۔ مولانا نے کہا کہ معاشرے میں امن، انسانوں کے باہمی احترام اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا ایک مہذب معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب ہمیں ظلم سے اجتناب، عدل و انصاف اور انسانی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔
حالاتِ حاضرہ پر اظہارِ خیال
حالاتِ حاضرہ کا ذکر کرتے ہوئے امام جمعہ کریم پور نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، عراق سے امریکی افواج کے انخلاء اور خطے میں جاری مزاحمتی جدوجہد کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمتی حلقے امریکی فوجی انخلاء کو اپنی جدوجہد کی کامیابی اور فتح قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے سید حسن نصراللہؒ کی دوسری برسی کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے ان کی خدمات اور خطے کی سیاست و مزاحمت میں ان کے کردار کا ذکر کیا۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کو سمجھنے کے لیے جذبات کے ساتھ تاریخی حقائق اور زمینی صورتحال کا بھی مطالعہ ضروری ہے۔
آخر میں مولانا سید وصی حیدر رضوی نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، مظلومینِ عالم کی حمایت، ظلم کے خاتمے، باہمی رواداری اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ